ابنا: ایٹمی انرجی کی عالمی ایجسی میں اسلامی جمہوریہ ایران کے نمائندے علی اصغر سلطانیہ نے بورڈ آف گورنرس کے اجلاس کے بعد اس اجلاس میں پیش کئے گئے مسائل پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف بورڈ آف گورنرس کی قرار داد پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ قرراداد مسئلے کو حل کرنے میں کوئي مدد نہیں کرے گي بلکہ اس سے مسئلہ مزید پیچیدہ ہوجائے گا۔ آئي اے ای اے کے بورڈ آف گورنرس کی قرارداد میں آیا ہے کہ ایران نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو نظر انداز اور ان کی خلاف ورزی کی ہے اور تہران سے یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ آئي اے ای اے کےساتھ مزید تعاون کرے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اس طرح کی قراردادیں جو کہ ایک سیاسی بیان کی حد میں ہیں درواقع ایران کے ایٹمی پروگرام کے حق میں ناوابستہ تحریک کے ایک سو بیس ملکوں کے حمایتی بیان کی مخالفت ہے۔ یہ بیان ایران کے پرامن ایٹمی حقوق کی حمایت میں ہے۔
آئي اے ای اے کی نئي قرارداد سے جس پر بورڈ آف گورنرس متفق نہیں ہوسکے جو امریکہ کی شکست ہے، ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ا یٹمی پروگرام کے تعلق سے مغربی پالیسیاں مکمل طرح سے سیاسی محرکات پر مبنی ہیں۔ دوسرے الفاظ میں یہ قرارداد دنیا کی اکثریت کے سامنے مغرب کی صف آرائي کے معنی میں ہے۔ دراصل آئي اے ای اے کے بورڈ آف گورنرس نے جو ایران مخالف قرارداد منظور کی ہے دراصل وہ مسئلےکے حل کے لئے نہیں بلکہ ایجنسی میں ایران کے خلاف مغرب کی کوششوں کی حمایت کے لئے ہے گرچہ اس میں جنوبی افریقہ کے اصرار پر بڑھادی گئي ہےکہ آئي اے ای اے کے ساتھ ایران کے تعاون کے لئے مذاکرات کئےجائيں اور واضح منصوبہ بندی بھی کی جائے۔ یوکیا آمانو نے دسمبر دوہزار نو سے ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کی ذمہ داری سنبھالی ہے۔ اسی وقت سے ان پر امریکہ اور ان کے اتحادیوں کے زیر اثر رہنے کا الزام لگایا جارہا ہے۔ وکی لیکس کی دستاویزات کے مطابق یوکیا آمانو اپنے فیصلوں میں وہائٹ ہاوس کی پیروی کرتے ہیں۔ اس خدشے کو ایران کے متعدد ایٹمی سائنس دانوں کی ٹارگٹ کلنگ کے بعد مزید تقویت ملی کیونکہ ان ایٹمی سائنس دانوں کے نام آئي اے ای اے کو دئے گئے تھے۔ مجموعی طور سے یہ کہا جاسکتا ہےکہ ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کے سیکریٹری جنرل یوکیا امانو نے اب تک کوئی قابل تعریف کارنامہ انجام نہیں دیا ہے اور یہ ایسے عالم میں ہے کہ یوکیا آمانو کی سیکریٹری شپ اگلے سال ختم ہوجائے گي۔ ایران کے خلاف آئي اے ای اے کی یہ منفی قرارداد ایسے عالم میں سامنے آرہی ہےکہ ایجنسی کے ماہرین نے دوہزار چار اور دوہزار پانچ میں دو مرتبہ پارچین فوجی سائٹ کے معائنے کئے تھے لیکن چونکہ ایجنسی سیاسی اھداف کے تحت کام کررہی ہےلھذا ایران کے ساتھ اس کا کوئي معاہدہ نہیں ہوسکا ہے۔ ایران کے خلاف آئي اے ای اے جن باتوں پر اصرار کررہی ہے وہ دراصل امریکی سی آئي اے اور موساد کے تراشیدہ الزامات ہیں جن کا غلط ہونا بارہا ثابت ہوچکا ہےلیکن پھر بھی ایجنسی ان کی الزامات کی اساس پر ایران کی فوجی سائٹوں کا معائنہ کرنے کا اصرار کررہی ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے بارہا مثبت تعاون کرکے یہ ثابت کردیا ہےکہ وہ ایجنسی سے تعاون میں پیچھے نہیں ہٹے گا اور اس تعاون کو جاری رکھنے میں کسی طرح کے شک و تردید میں بھی مبتلا نہیں ہے لیکن یہ یقین کرنا چاہتا ہےکہ اس کے تعاون کے نتیجے میں ایران کے ایٹمی معاملے کو ختم کردیاجائے گا۔ اس بات میں کسی طرح کا شک نہیں ہونا چاہیے کہ اگر ایران کی طرف سے تعاون کی خواہش ہے تو آئي اے ای اے کو مکمل طرح سے فنی تکنیکی اور قانونی نیز سکیورٹی کے معیارات کے مطابق کام کرنا ہوگا، اسی وجہ سے آئي اے ای اے میں ایران کے نمائندے علی اصغر سلطانیہ نے کہا ہے کہ ایجنسی کے ابھامات کے بارے میں ایران کا تعاون کسی معاہدے کے بغیر عمل میں نہیں آسکتا اس کے علاوہ معاہدہ ضروری ہے۔ جو چیز مسلم ہے وہ یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران این پی ٹی معاہدے کا مکمل طرح سے پابند ہے اور صاف ظاہر ہے کہ وہ پرامن ایٹمی انرجی کے استعمال کے اپنے حقوق خاص طور سے یورینیم کی افزودگي پر کسی طرح کا معاملہ نہیں کرے گا۔
.....
/169